خصوصی رپورٹ

ٹیک-فاگ: بی جے پی کا مددگار ایپ ، جس نے سائبر آرمی کونفرت پھیلانےاور ٹرینڈس سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی طاقت دی ہے

دی وائر نے ان دعووں کی تفتیش کی ہے، جن میں کہاگیاہے کہ آن لائن کارکنوں کےذریعے اِنکرپٹیڈمیسجنگ پلیٹ فارموں کو ہائی جیک کرنے اور گھریلو صارفین کے بیچ رائٹ ونگ پروپیگنڈے کوفروغ دینے کے لیے ایک انتہائی نفیس ایپ ٹیک- فاگ کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔

آیوشمان کول اور دیویش کمار / 05 جنوری 2022

نئی دہلی: اپریل 2020 میں ٹوئٹس کی ایک سیریز میں ایک بےنام ٹوئٹراکاؤنٹ @Aarthisharma08 نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کےانفارمیشن ٹکنالوجی سیل(آئی ٹی سیل)کےغیرمطمئن ملازم ہونے کادعوی کرتے ہوئےایک انتہائی نفیس اور خفیہ ایپ کےوجودکے بارے میں بتایاتھا۔

الزام لگایا گیاکہ'ٹیک-فاگ'نام کے اس ایپ کا استعمال حکمراں جماعت سے وابستہ سیاسی لوگوں کےذریعےمصنوعی طور پر پارٹی کی مقبولیت کو بڑھانے، اس کے ناقدین کو ہراساں کرنے اور تمام بڑےسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بڑے پیمانے پر عوامی تاثرات کو ایک سمت دینے کے لیےکیاجاتا ہے۔

اس ہینڈل کےذریعےٹیک-فاگ کےذکر نے دی وائر کی توجہ کھینچی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ یہ'خفیہ ایپ' 'ری کیپچا کوڈ کو بائی پاس' کرنےکی صلاحیت رکھتا تھا، جس سے ساتھی ملازمین'ٹیسٹ اور ہیش ٹیگ ٹرینڈز کو آٹو-اپلوڈ' کر سکتےتھے۔ اس رپورٹ کےمصنف اس گمنام ایپ کی چھان بین کےمقصد سے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کو چلانے والے شخص تک پہنچے۔

آگے کی بات چیت میں اس سورس (ذرائع)نے دعویٰ کیا کہ ان کے روزمرہ کےمعمولات میں ٹوئٹر کے 'ٹرینڈنگ'سیکشن کو کچھ ٹارگیٹڈ ہیش ٹیگ سے ہائی جیک کرنا، بی جے پی سے وابستہ متعدد وہاٹس ایپ گروپ بنانا، انہیں چلانا اور ٹیک-فاگ ایپ کے ذریعے بی جے پی کی نکتہ چینی کرنے والےصحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنا شامل ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اپنے مبینہ ہینڈلر دیوانگ دوے، جو بی جے پی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ ( بی جے وائی ایم) کے سابق نیشنل سوشل میڈیا اور آئی ٹی چیف اور مہاراشٹر میں پارٹی کے موجودہ الیکشن مینجر ہیں، کے انہیں کیے گئے

وعدے کے پورا نہ ہونے کے بعد انہوں نے سامنےآنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، دوےنے 2018 میں بی جے پی2019 کے لوک سبھا انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے پر انہیں ایک اچھی نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہیں ہوا۔

اگلے دو سالوں میں آپسی بات چیت کا ایک طویل عمل جاری رہا، جہاں دی وائر کی ٹیم نے اس بات کی چھان بین کی کہ وہسل بلوور کی جانب سے لگائے گئےالزامات میں کن چیزوں کی تصدیق کی جا سکتی ہے اور کن چیزوں کی نہیں۔

اس کے علاوہ اس طرح کے ایپ کے ہونے سےعوامی فورم کےبحث ومباحثہ اور ملک کے جمہوری عمل کے تقدس پر مرتب ہونے والے ہمہ گیر اثرات کی بھی چھان بین کی گئی۔

اِن-کرپٹیڈ ای میل اور آن لائن چیٹ روم کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے پیچھے موجود شخص نے ایپ کی خصوصیات کو ظاہر کرنے والے کئی اسکرین کاسٹ اور اسکرین شاٹ بھیجے۔ذرائع نے(عوامی نہ کرنے کی شرط پر)اپنی اور ان کےمالکوں کی شناخت قائم کرنے کے لیے پے-سلپ(ادائیگی کی رسید)اور بینک کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔

وہسل بلوور کی جانب سے لگائے گئے ہرالزام کو آزادانہ طور پرتصدیق کے ایک عمل سے گزاراگیا، جس کے ذریعےدی وائر کی ٹیم نے ایپ کےمختلف کاموں، ایپ بنانے والوں اور صارفین کی شناخت اور اس کا استعمال کرنے والی تنظیموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اِن-کرپٹیڈ ای میل اور آن لائن چیٹ روم کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے پیچھے موجود شخص نے ایپ کی خصوصیات کو ظاہر کرنے والے کئی اسکرین کاسٹ اور اسکرین شاٹ بھیجے۔ذرائع نے(عوامی نہ کرنے کی شرط پر)اپنی اور ان کےمالکوں کی شناخت قائم کرنے کے لیے پے-سلپ(ادائیگی کی رسید)اور بینک کی تفصیلات بھی شی

ذرائع نے دی وائر کو ٹیک-فاگ ایپ کی براہ راست ایکسس (رسائی) نہیں دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کئی حفاظتی پابندیوں کی وجہ سے ممکن نہیں ہے–جس میں ایپ ڈیش بورڈ میں لاگ-ان کرنے کے لیے تین ون ٹائم پاس ورڈ (اوٹی پی)کی ضرورت اور دفتر سے باہر اس کے استعمال کو روکنے کے لیےلوکل فائر وال کی موجودگی شامل ہے۔

حالاں کہ وہ ہمیں ای-میل کی معرفت بی جے وائی ایم کےایک عہدیدار سےجوڑنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے ذریعےمہیا کرائے گئےکوڈ اسکرپٹس نےدی وائی کی ٹیم کوٹیک-فاگ ایپ کوہوسٹ (میزبانی)کرنے والےسیکیور سرورکو جوڑنے والے متعدد بیرونی ٹولز اور سروسز کی شناخت کرنے میں مدد کی۔

پرائمری شواہد کے علاوہ دی وائر کی ٹیم نے ذرائع کی جانب سے مہیا کرائے گئےمتعددسوشل میڈیامواد اور اس ایپ کو چلانے والے نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی مفصل فارنسک جانچ کرنے کے لیےکئی اوپن سورس جانچ تکنیکوں کا استعمال کیا۔

نیٹ ورک کے بارے میں مزید جاننے کی غرض سےٹیم نے دوسرےآزاد ماہرین اور بڑے آپریشنوں میں شامل اداروں کے موجودہ ملازمین کا بھی انٹرویو کیا۔

اس عمل کے ذریعے دی وائر کوشواہد کےتاروں کو آپس میں جوڑ کرآگے بڑھنے اور ایک بڑے آپریشن کا انکشاف کرنے میں کامیابی ملی،جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عوامی بحث ومباحثہ کو گمراہ کرنے کے لیےقدم سے قدم ملاکر کام کرنے والےسرکاری اور نجی اتھارٹیوں کےاتحاد کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔

ایسا تقریباً تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرفرضی ٹرینڈ کو آگے بڑھا کر اور بحث ومباحثہ /چرچہ کو اپنے حساب سےہائی جیک کرتے ہوئےکیا جا رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر ہیرا پھیری کرنے
والےایپ کی چارخطرناک خصوصیات

ذرائع کی جانب سےدستیاب کرائے گئے اسکرین کاسٹ اور اسکرین شاٹ نے ایپ کی متعددخصوصیات کونشان زدکیا اور سائبر دستوں کے کام کاج کےڈھانچے کو اور قریب سےسمجھنے میں ہماری ٹیم کی مدد کی۔

یہ سائبر آرمی اس ایپ کا استعمال روزانہ عوامی مباحثوں میں ہیرا پھیری کرنے، آزاد آوازوں کو ہراساں کرنے اور دھمکی دینے اور ہندوستان میں یکطرفہ انفارمیشن کی تشہیر کے لیے کرتی ہے۔

عوامی بیانیہ خلق کرنا

اس ایپ کا ایک اہم کام ٹوئٹر کے'ٹرینڈنگ'اور فیس بک کے ٹرینڈوالےسیکشن کواغوا یا ہائی جیک کرنا ہے۔اس کام کے لیے ایپ آپریٹرز ایپ کی جانب سےاِن-بلٹ آٹومیشن فیچرزکا استعمال ان کے زیر کنٹرول اکاؤنٹس کے ذریعےکسی فرد یا گروپ کے ٹوئٹس کو آٹو-ری ٹوئٹ یا پوسٹ کو آٹو شیئر کرنے اور موجودہ ہیش ٹیگز کو اسپام کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 12

اس فیچرکا استعمال رائٹ ونگ پروپیگنڈے کو کئی گنا پھیلانے، اس مواد کو پلیٹ فارم کے وسیع اور الگ الگ طبقے کےصارف تک پہنچانےکے لیےکیا جاتا ہےاور اس طرح سےانتہا پسندانہ بیانیے اور سیاسی تحریکوں (مہم) کی مقبولیت کو حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاتا ہے۔

دی وائر نے اس دعوے کی تصدیق ذرائع کی جانب سے وقت سے پہلے مہیا کرائے گئے دو ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ کی غیر مستند اور مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی کرکےکی ۔مہیا کرائےگئےیہ دونوں ہیش ٹیگ باٹ جیسےاورمشتبہ معلوم ہونے والےاکاؤنٹس کےذریعے غیر مستند طریقے سے ضرب کیے جانے کے بعد پلیٹ فارم کے ٹرینڈنگ سیکشن تک پہنچ گئے۔

ان میں سے ایک ہیش ٹیگ #CongressAgainstLabourers (کانگریس اگینسٹ لیبررس) 3 4 مئی 2020 کو ذرائع کی طرف سےرات 8:25 بجے شیئر کیا گیا تھا، جو اس دن کے لیے مقررہ اہداف کی فہرست کو نمایاں کرنے والے ایک اسکرین شاٹ کے ایک حصے کےطور پرملا تھا۔

اسی اسکرین کے مطابق، ذرائع کو اس دن کم از کم 55000 ٹوئٹس میں اس ہیش ٹیگ کو دکھانے اور پلیٹ فارم کے ٹرینڈنگ سیکشن میں پہنچانے کا ہدف دیا گیا تھا۔

ایک سوشل میڈیاانالسٹ ٹول میلٹواٹر ایکسپلوررکے ذریعے، ہیش ٹیگ کی آن پلیٹ فارم سرگرمی کےتجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ہیش ٹیگ پہلی بار دو گھنٹے پہلے ٹوئٹر پرنمودار ہوا تھا اور ذرائع کے اسکرین شیئر کرنے کے آدھے گھنٹے بعد رات 9 بجے کے قریب چوٹی پر پہنچ گیا۔ اس ہیش ٹیگ کو 57000 بار ری ٹوئٹ کیا گیاتھا،جو کہ ان کو ملے ہدف سے 2000 زیادہ تھا۔

اس کے علاوہ اس اسکرین نے یہ بھی دکھایا کہ کس طرح ذرائع نے کام شروع کرنے کے پہلے دو گھنٹوں میں 1700 اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے ہیش ٹیگ پوسٹ کیا تھا۔اس امر کی تصدیق اس آزادانہ تجزیے سےبھی ہوئی،جس میں ہندوستانی وقت کے مطابق شام 6:30 پراس ہیش ٹیگ کوعین 1700 اکاؤنٹس کی جانب سے پوسٹ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

3

یہ اسکرین شاٹ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان فیک اکاؤنٹس کوایپ کا استعمال کرکے کھولا گیا ہے، جو سائبر آرمی کو عارضی ای میل ایڈریس بنانے، فون نمبروں کو ایکٹو کرنے اور وہاٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور ٹیلی گرام کی جانب سے طے شدہ 54

اے پی آئی حدوں، ای میل اور او ٹی پی کی تصدیق کی مجبوریوں سے در گزر کرنے میں مدد کرتا ہے۔

حالاں کہ ٹیم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکی کہ کیا یہ منصوبہ بند پوسٹنگ کو ممکن بنانے کے لیے ایپ سے جوڑے گئے عارضی اکاؤنٹس ایپ کے ذریعے ہی بنائے گئے تھے یا حقیقی بی جے پی کارکنوں اور ایپ آپریٹرز کے ذریعے۔

اِن ایکٹو وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کی فشنگ

یہ ایپ ایک اور خطرناک کام انجام دیتی ہے۔ یہ نجی آپریٹرز کو عام شہریوں کےغیر فعال وہاٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہائی جیک کرنے اور ان کے فون نمبروں کا استعمال کرکے اکثررابطہ کیےجانے والے یا تمام نمبروں پر پیغام بھیجنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ'ٹوکن تھیفٹ'تکنیک سے ملتی جلتی تکنیک کا استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔ 76

یہ ایپ آپریٹرزکے ہدف بنائے گئے صارفین کی نجی جانکاریوں کو چرانے اور اسے کلاؤڈ بیسڈ سیاسی ڈیٹا بیس میں شامل کرنے کے لیے بھی ایپ کااستعمال کرتے ہیں۔

عام شہریوں کواس ڈیٹا بیس میں شامل کرنا،انہیں مستقبل کی ہراسانی اور ٹرولنگ کا ممکنہ ہدف بنانے کے لیے پیش کردیتا ہے۔

دی وائر نے ایپ کے اس فیچر کی تصدیق کے لیےذرائع کووہاٹس ایپ میں سیندھ لگانے کے دعوے کی براہ راست پیش کش/ مظاہرہ کے لیے کہا۔مصنفین کے تیار کردہ ٹیکسٹ پیغام فراہم کرنے کے چند منٹوں کے اندر، ذرائع نے ٹیک-فاگ ایپ کا استعمال کرکے اس رپورٹ کےایک مصنف کے'غیر فعال'وہاٹس ایپ اکاؤنٹ کوہیک کر لیا اور اس اکاؤنٹ سے ان کے 'اکثر رابطہ کیے جانے والے'صارفین کو وہ پہلے سے تیار کیاہوا پیغام بھیج دیا۔

تمام پانچ ٹاپ صارفین(بشمول رپورٹ کے دیگرمصنف)کو وہ پہلے سے تیار کردہ پیغام موصول ہوا، جس نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ ایپ کا یہ فیچر تجزیہ کےوقت کام کر رہا تھا۔

منظم طور پر ہراسانی کے لیے عام شہریوں کے ڈیٹا بیس کا استعمال

ایپ کے اسکرین شاٹس اور اسکرین کاسٹس سےعام شہریوں کے ایک مفصل اور متحرک کلاؤڈ ڈیٹا بیس کاپتہ چلتا ہے،جس کو ان کے پیشے، مذہب، زبان، عمر، جنس، سیاسی وابستگی اور یہاں تک کہ ان کی جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

یہ اسکرین شاٹس اس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ڈیٹا بیس اپنے آپریٹرز کواشخاص یا گروپوں کو ایک گوگل شیٹ سے منسلک کرکے یاآٹو جنریٹنگ کی-ورڈس( کلیدی الفاظ) اورجملوں کے توسط سےآٹو-رِپلائی کے قابل بھی بناتا ہے، جن میں سے اکثرگالی گلوچ اور توہین آمیز ہوتا ہے۔ 111098

دی وائر نے ایپ کے اس فیچر کی تصدیق'خاتون صحافیوں'،جو ایپ میں دکھائے گئےٹارگیٹیڈگروپوں میں سے ایک ہیں، کو بھیجے گئے جوابوں کی نگرانی کے ذریعے بھی کی۔

یکم جنوری2021 سے 31 اپریل2021 تک ٹیم نے ٹوئٹر پرسب سے زیادہ ری ٹوئٹ ہونے والی280 خاتون صحافیوں کے ٹوئٹر پر ملے46 لاکھ جوابوں کا تجزیہ کیا اور پایا کہ ان میں سے 18 فیصدی جواب (800 ہزار سے زیادہ)ٹیک-فاگ ایپ کے ذریعے چلائے جارہے اکاؤنٹس سےدیے گئے تھے۔

اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اپنےاہداف کی مختلف زمروں میں درجہ بندی آپریٹرز کو اپنے شکار کو انتہائی سدھے ہوئے طریقے سے نشانہ بنانے کی اجازت دیتی ہے۔

دی وائر کسی بھی جوڑی گئی گوگل شیٹ تک رسائی حاصل کرنے کامیاب نہیں ہوسکا، کیونکہ ایپ آپریٹرز کے پاس ایسا کوئی سیدھا لنک نہیں ہوتا ہے، جس سےوہ اس دستاویز کو دیکھ سکیں یا اس میں ترمیم کرسکیں ۔

وہ بس ایپ کے آٹوسجیسٹیڈ مینو میں سے دستیاب ان پٹس کا ہی انتخاب کر سکتے ہیں۔ لیکن، آلٹ نیوز نے اس سے قبل اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیے بی جے پی کے ذریعےگوگل شیٹوں کے استعمال کے بارے میں رپورٹنگ کی ہے۔

ہر ثبوت کو مٹانےکی طاقت/p>

اس ایپ کی انتہائی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایپ آپریٹرزپل بھر کی نوٹس پر تمام موجودہ اکاؤنٹس کو حذف یا تبدیل کر سکتے ہیں۔ نظریاتی طور پر اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے ماضی کی تمام سرگرمیوں کو ؛ جو ان کے جرم کو ثابت کر سکتے ہیں،تباہ کر سکتے ہیں۔ 1312

ایپ کے اس فیچر کی وجہ سے دی وائر آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ رپورٹ کی اشاعت کے وقت یہ فیچرایکٹوتھا یا نہیں۔

ٹیک-فاگ کے پس پردہ
کارپوریٹ-تکنیکی گٹھ جوڑ

ٹیک-فاگ ایپ کی خصوصیات کا جائزہ لینے کے بعد دی وائر ٹیم نے خفیہ اطلاع دینے والوں کو ان کےمالکوں کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کے لیے کہا۔

ان کی جانب سےسے بھیجے گئے بینک اسٹیٹمنٹ اور پے سلپ (ادائیگی کی رسید)میں حیرت انگیز طور پر دو نجی کمپنیوں- پرسسٹنٹ سسٹمز اور محلہ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کاذکر بالترتیب ان کے 'مالکان' اور 'اسائنڈ کلائنٹ'کے طور پر کیا گیا تھا۔

پرسسٹنٹ سسٹم 1990 میں قائم ہونے والی ایک ہندوستانی-امریکی پبلک کمپنی ہے، جبکہ محلہ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ ٹوئٹر کی حصہ داری والی ہندوستانی علاقائی زبانوں کے ایک مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم سیئر چیٹ کی مربی کمپنی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پرسسٹنٹ سسٹم ان کی بحالی سوشل میڈیا انچارج کے طور پر کرتا ہے اور ان کا صدر دفتر ناگپور، ہندوستان میں کمپنی کا کارپوریٹ-آفس ہے۔لیکن ٹیک-فاگ ایپ کوچلانے کے اپنے موجودہ پروجیکٹ کے لیےانہیں شیئر چیٹ اور ایک شخص دیوانگ دوے، جس کو وہ براہ راست رپورٹ کرتے ہیں اور جو بی جے وائی ایم کے سابق نیشنل سوشل میڈیا اور آئی ٹی چیف اور اس وقت مہاراشٹر میں بی جے پی کے الیکشن مینجر ہیں، کے ساتھ نزدیکی طور پر جڑکر کام کرنا ہوتا ہے۔

دی وائر آزادانہ طور پر دوے کی سپروائزری رول کی تصدیق نہیں کر سکا، حالانکہ ہمارا تکنیکی تجزیہ ایک وسیع تر تعلق کی تصدیق کرتا ہے۔

ٹیک-فاگ کے ساتھ پرسسٹنٹ سسٹم کارشتہ

پرسسٹنٹ سسٹم ایک ٹکنالوجی سروس کمپنی ہے،جس نے 2015 سے سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ جنوری 2018 میں دی ہندو بزنس لائن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کمپنی کے اس وقت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹراور پریسیڈنٹ-سروسز، مرتیونجے سنگھ’انفارمیشن ٹکنالوجی میں سرکاری خرچ سے اپنے ریونیو میں اضافے کو لے کر بہت پر امید'تھے۔

چند ماہ بعداسی سال جولائی میں وزارت صحت و خاندانی بہبود ،حکومت ہندنےپرسسٹنٹ سسٹم کا انتخاب ہندوستان کی دس ریاستوں کے صحت سے متعلق جانکاریوں کو ریکارڈ کرنے، اسٹور کرنے اور پروسس کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیٹا ہب بنانے کے لیےکیا۔

دی وائر نےٹیک-فاگ کےآپریشن میں پرسسٹنٹ سسٹم کے رول کی چھان بین کے لیےاِس وقت کمپنی میں کام کرنے والے ایک آزاد ذرائع سے رابطہ کیا۔

اس ذرائع نے کمپنی کے مائیکروسافٹ شیئرپوائنٹ(ایک داخلی معاون ٹول)کے اسکرین شاٹس ہم سےشیئر کیے، جو سرچ ٹرم 'ٹیک-فاگ'کی جانب سے نشان زدتقریباً 17000 اثاثوں کے ذریعےسےایپ کی متحرک ترقی کی طرف اشارہ کررہے تھے۔

ان اثاثوں میں تکنیکی دستاویز شامل ہیں، جو ایپ کےمختلف سطحوں کی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ان میں ٹوئٹر اور وہاٹس ایپ انٹیگریشن، گوگل فارمز پر مبنی ڈیٹا ان پٹ ٹولز، پے ٹی ایم کے ذریعے ادائیگی کا بنیادی ڈھانچہ اور ٹاسکر کا استعمال کرنے والے آٹومیشن ٹولز شامل ہیں۔

ٹاسکر ایک اینڈرائیڈ ایپلی کیشن ہے،جو ان پٹ کے طور پر دیے گئے'حوالوں'مثلاً صارف کالوکیشن، وقت، تاریخ، واقعہ اور برتاؤکی بنیاد پر پیغامات بھیجنے جیسے کام کوانجام دیتی ہے۔ 1514

دی وائر نے پرسسٹنٹ سسٹم سے جواب طلب کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انہوں نےرپورٹ کی اشاعت سے پہلے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

ہیٹ اسپیچ کا بیج بونے کے لیے شیئر چیٹ کا استعمال

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایپ آپریٹرز نے محلہ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے سب سے اہم پلیٹ فارم کا استعمال فیک نیوز، سیاسی پروپیگنڈے اور ہیٹ اسپیچ کو ٹوئٹر، فیس بک اور وہاٹس ایپ جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کرنے سے پہلےاسے چھانٹنےاور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا۔

ہندوستان کی نمبر وَن سوشل میڈیا ایپ ہونے کا دعویٰ کرنے والےشیئر چیٹ کے پاس ہزاروں ٹارگیٹڈ علاقائی برادریاں ہیں، جو لاکھوں صارفین کو پوسٹ، خبریں،فوٹو، میم اور ویڈیو کو اپنی زبان میں شیئر کرنے کا اختیار فراہم کرتےہیں۔

یہ ایپ ایک سوشل نیٹ ورک کے طور پر تو کام کرتا ہی ہے،جہاں صارفین اکاؤنٹس کو فالو کر سکتے ہیں،موجودہ صارفین کو پیغامات بھیج سکتے ہیں،ساتھ ہی ساتھ یہ ایک اوپن براڈکاسٹ پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے،جہاں لوگ انجان لوگوں کے ساتھ بھی مواد کو شیئر کر سکتے ہیں۔

شیئر چیٹ 14 مختلف مقامی زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے اور ہائپر لوکل مواد پر توجہ مرکوز کرتا ہے،جس کا ہدف ہندوستان کے ٹیئر-ون اورٹیئر- ٹو شہروں کےبہت تیزی سے بڑھ رہے غیر انگریزی داں سوشل میڈیا صارفین ہوتے ہیں۔

کمپنی کے دعوے کے مطابق، ہندوستان میں 16 کروڑ صارفین والی اس کمپنی نے اپریل2021 میں ٹائیگر گلوبل، اسنیپ اور ٹوئٹر جیسے کچھ موجودہ سرمایہ کاروں سے 502 ملین امریکی ڈالر اور جولائی میں 145 ملین امریکی ڈالر اکٹھے کیے، اس طرح کمپنی کی قیمت تقریباً 3 بلین امریکی ڈالر ہوگئی۔

ہندوستان ٹائمس کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق،کمپنی فیک نیوز اور ہیٹ اسپیچ کے معاملوں میں گھری ہوئی تھی اور کئی برادریاں غلط جانکاریوں اور سیاسی پروپیگنڈےکی وجہ سے اس سے ناراض تھیں۔

اسی سال دی کین نے کمپنی کی پرائیویسی پالیسی پرسوال اٹھائے تھے، جو مشتہرین اور کاروباری شراکت داروں کو اپنے صارفین کی کانٹیکٹ لسٹ، لوکیشن ڈیٹا، اور ڈیوائس کی تفصیلات،جن میں صارف کے فون میں انسٹال کیے گئےدیگر ایپس کے بارے میں معلومات بھی شامل تھی، تک رسائی کی اجازت دیتی تھی۔

ایک سال بعدکی اکنامکس ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق،کمپنی نے 5 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس اور اس طرح سے ان سے جڑے487000 پوسٹس کو پلیٹ فارم کی کمیونٹی گائیڈ لائنز –جوتشدد برپا کرنےکےمقصد سے نقصاندہ اور توہین آمیز مواد کے پھیلاؤ اور فرضی ہیش ٹیگ تحریکوں کو ریگولیٹ کرتا ہے-کی خلاف ورزی کے لیے حذف کر دیا تھا۔

سال 2017 میں اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران شیئر چیٹ کے پروڈکٹ لیڈ انکر سریواستو نے میڈیم پر ایک مضمون لکھاتھا، جس میں کمپنی کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو اس سوشل میڈیا پروڈکٹ کی طرف راغب کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو نشان زد کیا گیاتھا۔ ان میں علاقائی پارٹیوں کے لیےمخصوص برادریوں اورٹیگس کی تشکیل اور اتر پردیش کےانتخابات میں ان کے لیے مقبولیت کا ایک اشاریہ تیار کرناشامل تھا۔

ایک سال بعد ایک ہندوستانی پورٹل منی کنٹرول نے اس سلسلے میں ایک مضمون شائع کیاتھاکہ کس طرح علاقائی زبان کے لوگوں تک پلیٹ فارم کی رسائی کا فائدہ اٹھانے کے لیے کئی علاقائی اور قومی جماعتوں نے علاقائی زبان کے اس پلیٹ فارم پر اپناپروفائل تیار کیا تھا۔

اپنے دعوے کو قائم کرنے اور ایک بڑےکھیل سےپلیٹ فارم کےرشتےکو لے کرمزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیےوہسل بلوور نےان کے ذریعےٹیک-فاگ ایپ کے زیر کنٹرول 14 اکاؤنٹس کی ایک فہرست فراہم کی، جن میں سے ہر ایک کاشیئر چیٹ پر ایک جڑا ہوا اکاؤنٹ تھا۔ 1716

دی وائر نے ان اکاؤنٹس کے ذریعے شیئر چیٹ اور اس کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر/فیس بک پر 1 اپریل 2020 سے 30 اپریل 2020 تک 30 دنوں کے لیےکیےگئےعوامی پوسٹس کی نگرانی کی۔شیئر چیٹ اکاؤنٹس کی جانب سے پوسٹ کیے گئے پوسٹس کا موازنہ فیس بک/ٹوئٹر پر انہی اکاؤنٹس کے ساتھ کرنے پریہ بات سامنے آئی کہ تمام پلیٹ فارمزپر90 فیصد پوسٹس پر ایک جیسی تھی۔

ان پوسٹس کے ٹائم اسٹیمپس کےمزیدتجزیے سےیہ پتہ چلا کہ یہی پوسٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر آنے سے پہلے شیئر چیٹ پر اپ لوڈ کیے گئے تھے۔

یہ جاننے کے لیے کہ کیا یہ پیٹرن فرضی اکاؤنٹس کے ٹیک-فاگ نیٹ ورک کے وسیع تر رویے کی نمائندگی کرتا ہے، ہم نے شیئر چیٹ پرمقبول 'ہندی' اور 'مراٹھی' ٹرینڈنگ کمیونٹیز میں اپ لوڈ کیے گئے3.8 ملین عوامی طور پر دستیاب پوسٹس کا تجزیہ کیا۔

اس ڈیٹاسیٹ کو ایک ویژولائزیشن سافٹ ویئر گراف سٹی کے ذریعے نیٹ ورک گراف پر اتارا گیا، تاکہ شیئر چیٹ کے اندر مختلف کمیونٹی اور عوامی طور پر دستیاب مین اسٹریم کےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول ٹوئٹر لسٹ اور 'فیس بک گروپس'شامل ہیں، کے درمیان رشتوں کو نشان زدکیا جاسکے۔

گراف سے پتہ چلا کہ شیئر چیٹ پر مقبول مراٹھی کمیونٹیز میں اپ لوڈ کیے گئے تقریباً 87 فیصد پوسٹس اور ہندی کمیونٹیز میں اپ لوڈ کیے گئے 79 فیصد پوسٹس کو ان علاقائی زبانوں پر مبنی ٹرینڈنگ سیاسی کمیونٹیز میں حصہ لینے والے اکاؤنٹس کے ذریعےاس کے بعد مین اسٹریم کےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کیا گیا۔ 18

اس کے بعد ان کے سبھی پوسٹس کو ایک نیچرل لینگویج پروسسنگ ٹول آئی وی ایم واٹسن ٹون اینالائزر میں جذباتی اور لسانیاتی لہجے کی شناخت کرنے کے لیے ڈالا گیا۔ متعدد ڈیپ لرننگ آرٹیفیشل انٹلیجنس ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے ہم نے ان پوسٹس کی درجہ بندی مختلف جذباتی اور لہجے کےعنوانات کےتحت کی۔

اس تجزیے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ کیا شیئر کیے گئے مواد میں نفرت کے جذبات ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس نفرت کو کہاں اور کس سمت منتقل کیا جا رہا ہے؛ جنس، مذہب، معذوری، نسل، قومیت اور جنسی رجحان کس طرف۔

اس تکنیک کے سہارےتمام پوسٹس کی چار عنوانات کے تحت درجہ بندی کی گئی: نسل پرستی، جنس پرستی، ذات پات یا ان میں سے کوئی بھی نہیں- پہلے تین عنوان کے اندر آنےوالے تبصروں کو، جن کے اعتماد کی سطح 90فیصدی سے زیادہ تھی، ہیٹ اسپیچ کے طور پر نشان زد کیا گیا۔

اس طریقےسےجن 38 لاکھ پوسٹس کی جانچ کی گئی، ان میں سے کم از کم 58 فیصد(22 لاکھ)کو ہیٹ اسپیچ قرار دیا جا سکتا تھا۔ اس نتیجے کی از سر نو تصدیق امیزون ویب سروسز کے ذریعے فراہم کیےگئےاین ایل پی ٹول کامپری ہینڈ کے ذریعے کی گئی۔

دی وائر نےاس رپورٹ کے سلسلے میں اپنی بات رکھنے کے لیے شیئر چیٹ کے گریوانس آفیسر سے رابطہ کیا، لیکن انہوں نے داخلی جانچ کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کرتے ہوئے فوراً تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

اے ریکارڈز:
سب کو ایک ساتھ پرونے والا دھاگہ

ٹیک-فاگ کی سرگرمیوں اور بی جے وائی ایم کے بیچ رشتےکو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے ذرائع نے مصنفین کوبذریعہ ای میل بی جے وائی ایم کےموجودہ عہدیدارسے جوڑا۔

اس شخص نے ہمیں اپنے ایک آفسیل ای میل کے ذریعے کوڈ اسکرپٹ بھیجا۔ اس نے ٹیم کو متعدد بیرونی ویب سائٹس اور ٹولز کی شناخت کرنے میں مدد کی، جو ٹیک-فاگ ایپ کوہوسٹ کرنے والے محفوظ سرور سے جڑے ہوئے ہیں۔

پایتھن لنگویج(پروگرامنگ کی زبان )میں لکھا گیانیٹ ورک پروفائلر کوڈ ٹیک-فاگ سرور کی ریئل ٹائم نیٹ ورک سرگرمی کودکھاتا ہے۔یہ بھیجے گئے اور موصولہ ڈیٹا اور اس ایپ تک رسائی حاصل کرنے والے تمام ویب سائٹس اور سروسز کی فہرست کوبھی دکھاتا ہے۔

بی جے وائی ایم کےعہدیدار نے اس کوڈ کا استعمال کیا، جس پر1 فروری 2020کے6:46گرین وچ مین ٹائم کا ٹائم اسٹیمپ لگاتھا۔ اس نے سی ڈی این (کنٹنٹ ڈیلیوری نیٹ ورک) پر ہوسٹ کیے گئےٹیک-فاگ اے پی آئی(ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس)کو 'اَن لاک'کر دیا، جس کا مینجمنٹ پرسسٹنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

اس کوڈ نےاس مخصوص دن ٹیک-فاگ ایپ کو ایکسس کرنے والی ویب سائٹس اور سروسز کو فالو کرنے کے لیے اِن بلٹ سیکیورٹی سسٹم کو بائی پاس کردیا۔ 19

دی وائر اس اسکرپٹ کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا۔ اس کے لیے ایک آزاد ماہر،جو اس وقت مائیکرو سافٹ میں لیڈ سافٹ ویئر آرکیٹیکٹ کے طور پر کام کر ر ہے ہیں ، سے اس کا تجزیہ کروایا گیا۔

وہ اصل اسکرپٹ کےچھوٹ گئے لائبریریز- بنیادی طور پر ایک پایتھون پر مبنی نیٹ ورکنگ لائبریری جی وینٹ- کو ری اسٹور کرنےاور اسکرپٹ کو لوکل کمپیوٹر پر چلانے میں کامیاب رہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اسکرپٹ ایک'اِن باؤنڈ نیٹ ورک پروفائلر'کے طور پر کام کرتا ہے اور لوکل سرور کو ایکسس کر رہے تمام ویب سائٹس اور سروسز کی فہرست نکال دیتا ہے۔

ٹیم نے ان سروسز کی شناخت کو اجاگر کرنے والے یو آر ایل پر ری-ورس ڈی این ایس سرچ کے لیےڈومین ٹولز کا ایک تھریٹ انٹلی جنس پلیٹ فارم آئی آر آئی ایس کا بھی استعمال کیا۔ 2120

شناخت کی گئی ایک شروعاتی یو آر ایل میٹا بیس ڈاٹ شیئر چیٹ ڈاٹ کام تھی، جوٹیک-فاگ کے آپریشن میں شیئر چیٹ کی براہ راست شمولیت کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔

شیئر چیٹ کے علاوہ اس میں پروڈکٹیوٹی کے لیے استعمال میں لائے جانے والے کچھ مقبول بزنس ٹولز(گوگل ڈاکس اینڈ شیٹ، زوہو)، کچھ آٹومیشن(زپیئر، ٹاسکر)اور انالیٹکس(گرافانا، گوگل انالیٹکس)تھے۔

لیکن دوسرے یو آر ایل سرکار حامی ہندی اور انگریزی ویب سائٹ اور نیوز پلیٹ فارم ری پبلک ورلڈ، آپ انڈیا، اے بی پی نیوز اور دینک جاگرن وغیرہ سے وابستہ تھے، جو کہ ملک میں جانبدارانہ جانکاری کاماحول تیار کرنے میں بی جے پی کی مدد کرنے میں کچھ ڈیجیٹل میڈیا تنظیموں کی ملی بھگت کو لے کر سوال کھڑا کرتا ہے۔

بچے ہوئےیو آر ایل ٹیک-فاگ کی بڑے پیمانے پرجانچ کےاہم لنکس کی تصدیق کرتے ہیں،جن میں دیوانگ دوے کے ذریعے سے بی جے وائی ایم کا ملوث ہونابھی شامل ہے۔

ٹیک-فاگ کو ایکسس کرنے والےدو درج یو آر ایل'172.104.48.129'اور '103.53.43.161'دوے کے ذریعے بی جے وائی ایم کی ویب سائٹ اور آئی سپورٹ نمو ڈاٹ او آر جی کے اے یکارڈ(ایڈریس میپنگ ریکارڈ)سے میل کھاتے ہیں۔

دیوانگ دوے نے ای میل کے ذریعے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تکنیکی ٹیم کو کبھی بھی اس طرح کے ایپ کے ساتھ بی جے وائی ایم یا آئی سپورٹ نمو سرور کا کوئی تعلق نہیں ملا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 'ان کی ٹیم کا کوئی بھی ممبر یا کوئی بھی کبھی بھی ایسے ایپ یا ایسے سے وابستہ لوگوں کے رابطے میں نہیں رہا ہے۔'

یہ اس عام معاشرے کے بالکل برعکس ہے کہ اے ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے سرورکا ایکسس ہونا ضروری ہے۔ چونکہ ٹیک-فاگ ایک نجی ایپ ہے، جس کا کوئی اوپن اے پی آئی نہیں ہے، ڈیٹا اور وسائل کے اشتراک کے لیے ایپس کے بیچ کا یہ ربط کم از کم ان تنظیموں کے کچھ ملازمین کی دانستہ ملی بھگت کی طرف تو اشارہ کرتی ہی ہے۔

ایک گہری سازش کی بو تب اور بڑھ گئی جب دی وائر کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں دیوانگ کے جواب سے ایک گھنٹے پہلے اصل وہسل بلوور سے متعلق ٹوئٹر اکاؤنٹ سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی اور متعلقہ یوزر نیم @AarthiSharma08 سے بدل کر @AarthiSharma8کر دیا گیا۔

یوزر نیم میں اس تبدیلی کواس اکاؤنٹ سے پرانے ٹوئٹ کے یو آر ایل پر جا کرآزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکتی ہے، جو اب نئے یوزر نیم پر ری ڈائریکٹ ہو رہا ہے۔

جب مصنفین نے تبدیلی کی وجہ جاننے کے لیےذرائع سے رابطہ کیا، تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا اور اس سے منسلک ای میل اور پاس ورڈ بدل دیے گئے تھے۔ ذرائع نے مصنفین کے ساتھ ٹوئٹر سےہیک کے الرٹ کے طور پر موصولہ سیکیورٹی ای میل کا اسکرین شاٹ شیئر کیا ہے۔ 22

ٹیک-فاگ سرور کا
ٹھورٹھکانہ

اس معمہ کا آخری حصہ تھا، ٹیک-فاگ ایپ کے ٹھکانے کو تلاش کرنا اور اس کی ایک کاپی کو آرکائیو کرنا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیےٹیم نے بی جے وائی ایم ذرائع کے اس دعوے کی تصدیق کرنے کی کوشش کی کہ اسکرپٹ آؤٹ پٹ میں درج دویو آر ایل، '172.67.154.90' اور '104.21.80.213' – خود ایپ کو ہوسٹ کرنے والے جیو ریپلی کیٹیڈ سرور تھے۔

جیو ریپلیکیشن، سسٹم ڈیزائن کی ایک قسم ہے،جس میں ایک ہی ایپ کا یکساں ڈیٹا کئی دور کی فزیکل لوکیشن کے سرورز پر محفوظ کیا جاتا ہے، تاکہ سروس کے ردعمل کو بہتر بنایا جا سکے۔

اس سسٹم ڈیزائن کااستعمال متعدد سرورز میں ڈیٹا کوتقسیم کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے، جس سے ان پرپورے ایپلی کیشن ڈیٹا کو ہوسٹ کرنے والے 'ماسٹر سرور'کے مقابلے میں نگرانی رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دی وائر نے اس دعوے کی صداقت کی جانچ کے لیے دو یو آر ایل پر نگرانی رکھنےاور انہیں ویب آرکائیو کرنے کے لیے 5 فروری 2021 کوایک سرور بنایا۔ چار مہینے بعد، 1 جون 2021 کو 00:00 بجے '172.67.154.90'سرور نے ٹیک-فاگ ایپ کے لاگ ان اسکرین کودکھایااور یہ 2 جون کو 00:00 بجے'ایکسس ڈینائیڈ'کے ڈیفالٹ پیج میں واپس جانے سے پہلےاس صورت میں 24 گھنٹےلائیو رہا۔ 2423

لاگ ان اسکرین کا ڈیزائن شروعات میں ناگپور سینٹر میں ایپ آپریٹر کی جانب سے کام کررہے اصل وہسل بلوور کے ذریعے ٹیم کومہیا کرائے گئےایپ کے اسکرین شاٹس سے میل کھاتا تھا۔ اس نے ہمیں آپریشن کی صداقت کےسلسلے میں مزیدمطمئن کیا اور اس کا مزیدتکنیکی ثبوت فراہم کرایا کہ ٹیک-فاگ ایک لائیو ایپ ہے، جوکہ نظریاتی مرحلے سے نکل کردور چکا ہے۔

آگےہے طویل
راستہ

ان سرگرمیوں کی نظریاتی فطرت کو دیکھتے ہوئے پرسسٹنٹ سسٹم اور محلہ ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کی بی جے پی کی منظم سوشل میڈیا چھیڑ چھاڑ مہم میں شمولیت کاحقیقی مقصد ابھی تک پوری طرح سےواضح نہیں ہے۔

لیکن جو بات بالکل واضح ہے وہ یہ ہے کہ ٹیک-فاگ آپریشن کا پیمانہ، اس کی نفیس صورت اور اس کاسب پر چھا جانے کی فطرت پرائیویٹ کھلاڑیوں کےذریعےدنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں مشتبہ ڈیجیٹل قواعد میں شامل ہونے کاغیرمعمولی ثبوت پیش کرتے ہیں- جو کہ عام طور پر چین اور شمالی کوریا جیسےآمرانہ اور بند معاشروں میں ہی نظر آتا ہے۔

ٹیک-فاگ پڑتال میں آنے والی رپورٹس میں دی وائر اس خفیہ ایپ کے پیچھےکی ٹکنالوجی کاجائزہ لے گا اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ کس طرح ایپ کے ذریعے حکمراں پارٹی کے کارندوں نے سی اے اے مخالف تحریک، دہلی فسادات اور کووڈ-19 کی وبا جیسےاہم قومی واقعات کے ارد گرد سوشل میڈیا پر منظم چھیڑ چھاڑ کی ۔

نوٹ: اگر آپ پرسسٹنٹ سسٹم، شیئر چیٹ یابی جے وائی ایم کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور آپ ٹیک-فاگ ایپ استعمال کر رہے ہیں/یا کیا ہے یا اس کے بارے میں اور اس کےوسیع دائرہ کار کے بارے میں مزید معلومات رکھتے ہیں، تو براہ کرم tekfog@protonmail.com پر ہم سے رابطہ کریں۔ہم آپ کی پہچان کو خفیہ رکھیں گے اور آپ کی پرائیویسی کا تحفظ کریں گے۔

(آیوشمان کول جنوبی ایشیا کورکرنے والے ایک آزاد سیکیورٹی اور انٹلی جنس تجزیہ کار ہیں۔ دیویش کمار ایک آزاد ڈیٹا انالسٹ اور دی وائر سے وابستہ سینئر ڈیٹا ویژولائزر ہیں۔)